Shaz Malik

ہونے کا اپنے راز اجاگر کروں تو کیا

ہونے کا اپنے راز اجاگر کروں تو کیا یعنی کے اپنے ساتھ ستمگر کروں تو کیا اس زندگی نے راہ، یقیں تک تو چھین لی میں خود کو اپنے قد کے برابر کروں تو کیا کچھ بھی نہیں ہے دینے کو اب دانِ زندگی میں پیش تیرے روبرو اس پر کروں تو کیا جب زندگی […]

سیپ لہروں نے جب اچھالے کئی

سیپ لہروں نے جب اچھالے کئی دکھ سمندر نے پھر سنبھالے کئی عشق کے نام پر عداوت نے کاسہِ من میں درد ڈالے کئی بچ گئی اس لیے ترے غم سےیار رنج و غم اک دعا نے ٹالے کئی جب جدائی کا موڑ آیا تو لفظ ہونٹوں نے پھر سنبھالے کئی جسم اور روح کی […]

حسرتِ وصل خال آنکھوں میں

حسرتِ وصل خال آنکھوں میں لے کے آئی ملال آنکھوں میں دھوپ چھاؤں کا اک عجب موسم ہم نے دیکھا کمال آنکھوں میں عکس اور آئینہ ملے جب تو کھو گئے سب سوال آنکھوں میں ضبط چھلکا تو ہم نے دیکھا پھر دکھ کی لہروں کا جال آنکھوں میں رنج و غم درد سسکیاں آنسو گھر بناتے […]

دل میں تم ہو خیال میں تم ہو

دل میں تم ہو خیال میں تم ہو سانس کو سر میں تال میں تم ہو سوچ کے دائروں میں ہو سمٹے میرے ماضی میں حال میں تم ہو مجھ کو آتی ہے بو ہتھیلی سے کیا لکیروں کے جال میں تم ہو جو خدا کے حضور رکھے ہیں میرے ہر اک سوال میں تم […]

کہانی کو نیا اک موڑ دینا ہی غنیمت ہے

کہانی کو نیا اک موڑ دینا ہی غنیمت ہےیہاں کردار کا دل توڑ دینا ہی غنیمت ہے جہاں احساس مر جائے محبت ختم ہوجائےادھورے ساتھ کو پھر چھوڑ دینا ہی غنیمت ہے مسافت سے مسافر یونہی گھبرانے لگے تو پھرسفر میں رخ ہوا کا موڑ دینا ہی غنیمت ہے عبادت شوق سے کرلو خدا کی ہاں مگر […]

Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!